نوڈیرو میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا، سپریم کورٹ تاریخ کے آئینے میں اپنا ریکارڈ درست کرے اور ماضی کی غلطی پر معافی مانگتے ہوئے بھٹو قتل کیس کا تاریخی فیصلہ جلد سنائے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ عدالت کی جانب سے فیصلوں میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں جن سے امید کی کرن نظرآئی لیکن ابھی بھی پچاس فیصد دہشتگرد رہا کردیئے جاتے ہیں۔عدلیہ دہشت گردوں کو کڑی سزا دے، مختاراں مائی کیساتھ زیادتی کرنے والے ملزم آزاد کردیئے گئے انکا کیس دوبارہ سنا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عدالتوں نے ماروائے آئین اقدامات کئے، سندھ کے وزیراعظم کو پھانسی اور پنجاب کے وزیراعظم کو رہا کردیا جاتا ہے، امید ہے ہمیں بھی انصاف ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ ماضی کی غلطیاں دہرانے کے بہت قریب ہے لیکن ہم بے نظیر شہید کی قبر کا ٹرائل نہیں ہونے دیں گے۔عدالت اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن سے دور رہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملتان کے وزیراعظم پر توہین عدالت لگائی گئی۔ انھوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ پر جیسی بھی مصیبتیں آئیں حق کا ساتھ نہ چھوڑیئے گا۔ ہمیں ان عدالتوں سے انصاف نہ ملا تو عوام کی عدالت اور تاریخ کی عدالت موجود ہے جو ہمارے ساتھ انصاف کریگی۔