.

Tuesday, 3 April 2012

گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اوردستی بم حملوں میں انیس افراد جاں بحق اور ستر زخمی ۔ شہر میں کرفیو نافذ، فوج نےکنٹرول سنبھال لیا ۔


Affiliate Program ”Get Money from your Website”

کراچی میں گڑبڑ ہرگز برداشت نہیں کرینگے، سندھ حکومت کو جتنی مدد چاہئے فراہم کی جائے گی۔ اسوقت سب جماعتیں اقتدار میں ہیں۔وزیراعظم گیلانی

    04 April 2012 , Waqt News,

pm gilani1241234 waqt


گڑھی خدا بخش میں ذوالفقار علی بھٹو کی تینتیسویں برسی کے موقع پر مزار پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور انکے خاندان نے ملک اور جمہوریت کیلئے جانیں دیں۔ ذوالفقار بھٹو کی پھانسی عدالتی قتل ہے، عدلیہ سے توقع ہے کہ بھٹو ریفرنس کا فیصلہ جلد سنائے گی۔ کراچی کے حالات پر سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے اسکا مستحکم ہونا معیشت کا مستحکم ہونا ہے۔ کراچی کا معاملہ صوبائی ہے وہاں گڑبڑ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور امن کے قیام کیلئے سندھ حکومت کو جتنی مدد چاہئے فراہم کی جائیگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ قوم محب وطن اور پاکستان کیساتھ ہے، وہاں مٹھی بھر عناصر علیحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں تاہم حکومت بلوچوں سے ماضی میں کی گئی زیادتیوں کا ازالہ کریگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ اب تو ہر جماعت اپوزیشن میں ہے،کوئی ایسی جماعت نہیں جو کسی ایک صوبے میں اقتدار میں نہ ہو اور ایسا کبھی نہیں ہوا کہ حکومت نے خود ہڑتالیں کرائی ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جتنی اہمیت اپوزیشن کو دی جاتی ہےاسے دیکھ کرتو ہمارا دل بھی چاہتا ہے کہ اپوزیشن میں ہی چلے جائیں۔


گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اوردستی بم حملوں میں انیس افراد جاں بحق اور ستر زخمی ۔ شہر میں کرفیو نافذ، فوج نےکنٹرول سنبھال لیا ۔

    04 April 2012 , Waqt News ,


gilgit tension1212



اتحاد چوک پرمظاہرہ کرنے والوں پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کردیا جس کے بعد گلگت میں صورتحال کشیدہ ہوگئی۔ مختلف علاقوں میں شرپسند عناصر نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بارہ سالہ بچے سمیت نو افراد جاں بحق جبکہ سترزخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرزہسپتال، سول ہسپتال اور سی ایم ایچ منتقل کیاگیا۔ دوسری جانب مشتعل افراد نے ٹائر جلا کرسڑکوں کو بلاک کردیا اور پتھراؤ کیا۔ پُرتشدد واقعات اورکشیدگی کے باعث عوام گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے جبکہ دکانیں اور کاروباری مراکز بھی بند کردئیے گئے۔ دوسری جانب چلاس کے قریب قراقرم ہائی وے پر نامعلوم افراد نے مسافروں کو بس سے اتار کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں گیارہ افراد جاں بحق ہوگئےجبکہ چھ بسوں کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔شرپسند عناصر نے گاڑیوں کی حفاظت پر مامور ایس پی دیامر کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ اور ان کا محافظ زخمی ہوگئے۔ شہر میں کرفیو کے باوجود مختلف علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے اور مختلف گھروں کونذرآتش کردیا گیا ہے۔ فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ لوگوں کو گھروں میں رہنے اور شر پسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے گلگت بلتستان میں کشیدگی کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی گلگت بلتستان کو ہدایت کی ہے کہ شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کویقینی بنایاجائے۔

No comments:

Post a Comment

Blog Archive